شیعہ تنظیموں کے نمائندہ وفد کی وزیر اعلیٰ سندھ سے ملاقات، اہم پیش رفت سامنے آگئی

شیعہ تنظیموں کے نمائندہ وفد کی وزیر اعلیٰ سندھ سے ملاقات، اہم پیش رفت سامنے آگئی

کراچی میں شیعہ نمائندہ تنظیموں کے ایک وفد نے وزیر اعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ سے ملاقات کی اور گذشتہ تین روز سے جاری شیعہ مسلمانوں کے گھروں پر چھاپے اور علمائے کرام کی گرفتاری پر تحفظات کا اظہار کیا ، اس موقع پر مجلس وحدت مسلمین کے مرکزی ڈپٹی سیکرئٹری جنرل مولانا احمد اقبال، سید ناصر شیرازی ،مولانا مقصود ڈومکی، سید علی حسین نقوی، سنی اتحاد کونسل کے صاحبزدہ حامد رضا، جعفریہ الائنس کے علامہ عباس کمیلی ،سید شبر رضا ،مرکزی تنظیم عزا کے سلمان مجتبی اور شیعہ علماء کونسل کے مولانا ناظر تقوی موجود تھے۔

اطلاعات کے مطابق فرقہ وارنہ ٹارگیٹ کلنگ کے الزام میں پولیس نے نامور شیعہ سیاست دان اور سابق سینیٹر سید فیصل رضا عابدی کو انکے گھرسے گرفتار کرلیا تھا،جس پر شیعہ مسلمانوں کی جانب سے احتجاج کیا گیا تو مختلف دفعات کے تحت پولیس نے شیعہ ایکشن کمیٹی کے مولانا مرزا یوسف حسین اور مولانا احمد اقبال کو بھی گرفتار کرلیا، اسی دوران کراچی شہر کی کئی شیعہ آبادیوں پر چھپاے مار کر رینجرز اور پولیس نے کئی نوجوانوں کو گرفتار کرلیا جبکہ رضویہ کی امامبارگاہ میں دوران چھاپہ مقدسات کی توہین بھی دیکھنےکو ملی، اس واقعہ پر رضویہ کے مومنین نے 24 گھنٹے احتجاجی دھرنا دیا،جبکہ گذشتہ رات سے بلاجواز گرفتاریوں کے خلاف ملیر نیشنل ہائی وے پر بھی دھر نا جاری رہا جسے پولیس نے آنسو گیس اور شیلنگ کے ذریعہ ثبوتاژ کرنے کی کوشیش اس آنکھ مچولی کے دوران پولیس نے مزید 25 شیعہ جوانوں کو گرفتار کرلیا۔

بگڑتی ہوئی صورتحال کے پیش نظرمجلس وحدت مسلمین  نے شیعہ جماعتوں کی مشترکہ میٹنگ بلائی اور مشترکہ لائحہ تیار کرتے ہوئے پریس کانفرنس کرنے کے بعد وفد کی صورت میں وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ سے ملاقات کرنے گئے جہاں تحفظات کا کھل کر اظہار کیا گیا شیعیت نیوز کے مطابق مذاکرات کے بعد وزیرا علیٰ سندھ مراد علی شاہ نے مظاہروں کے دورا ن گرفتار ہونے والے تمام مظاہرین کی ایف آئی آر واپس لینے کا حکم جاری کیا،جبکہ مولانا مرزا یوسف حسین کے حوالے سے کہا کہ انہیں عدالت سے ضمانت پر رہا کردیا جائے گا، فیصل رضا عابدی کے معمالے پر وزیراعلیٰ نے کہا کہ ان پر غیر قانونی اسلحہ رکھنے کا مقدمہ ہے لہذا اگر وہ لائنس پیش کردیتے ہیں تو انہیں بھی رہا کردیا جائے گا، دوسری جانب اس بات پر بھی اتفاق کیا گیا کہ اب مزید شیعہ آبادیوں پر چھاپے نہیں مارے جائیں ،وزیر اعلیٰ سندھ نے دہشتگردی کے خلاف جنگ میں شیعہ علمائے کرام سے تعاون کرنے کی درخواست۔

شیعیت نیوز کو ذرائع نے بتایا کہ وزیراعلیٰ سندھ نے مجلس وحدت مسلمین کے مرکزی ڈپٹی سیکرئٹری جنرل سے انکی بلاجواز گرفتار ی اور ہتھکٹری لگانے پر معذرت بھی کی۔

Share This:

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*

x

Check Also

Karachi police illegally detains 10 Shia students

Karachi police has raided residential flats and rounded up at least 10 Shia students originally ...