یم ڈبلیو ایم کے سربراہ کی بغداد کے امام جمعہ سے ملاقات، شیعہ سنی اتحاد پر تاکید


 مزار حضرت شیخ عبدالقادر جیلانی ؒ کے متولی کا ایم ڈبلیو ایم سربراہ سے ملاقات کے دوران شیعہ سنی اتحاد پر تاکید کرتے ہوئے کہنا تھا کہ امت مسلمہ میں اہل تشیع اور اہل سنت کی مثال اس شہباز کی سی ہے جس کے دو پر ہیں ایک شیعہ اور ایک سنی، ان کی ایک ساتھ حرکت سے شہباز بلندی تک پہنچے گا جبکہ بصورت دیگر، زمین کے بل گرے گا لہٰذا دونوں مکاتب کے درمیان خوشگوار تعلقات اس زمانے کی اہم ضرورت ہے۔


  1. مجلس وحدت مسلمین کے سربراہ علامہ راجہ ناصرعباس جعفری نے وفد کے ہمراہ امام جمعہ بغداد اور متولی مزار حضرت شیخ عبدالقادر جیلانی ؒ ڈاکٹر محمود خلف العیساوی سے ان کے دفتر میں ملاقات کی ہے۔

    اس موقع پر مجلس وحدت مسلمین کے مرکزی سیکریٹری امور خارجہ علامہ ڈاکٹر سید  شفقت حسین شیرازی اور ڈپٹی سیکریٹری جنرل علامہ سید ظہیر الحسن نقوی سمیت دیگر بھی موجود تھے۔

    ڈاکٹر محمود خلف العیساوی نے علامہ راجہ ناصرعباس جعفری کی آمد پر ان کا شکریہ ادا گیا۔

    معروف سنی بزرگ شیخ عبدالقادرجیلانی کے مزار کے متولی سے ملاقات کے دوران علامہ راجہ ناصر عباس نے انہیں دورہ پاکستان کی دعوت دی جو کہ انہوں نے قبول کرلی اور وہ آئندہ چند ماہ میں پاکستان کے دورے پر آئیں گے

    ملاقات میں امت مسلمہ کو درپیش حالیہ چیلنجز، مشرق وسطیٰ بالخصوص پاکستان میں شیعہ سنی اتحاد اور تکفیریت کے نفوذ  اور بڑھتے ہوئے خارجی داعشی فتنے کے حوالے سے تفصیلی گفتگو بھی ہوئی۔

    اس موقع پر علامہ راجہ ناصرعباس جعفری نے ڈاکٹر محمود خلف العیساوی کو مجلس وحدت مسلمین کی جانب سے پاکستان میں شیعہ سنی اتحاد و بھائی چارے کی کوششوں اور سنی جماعتوں کے ساتھ برادرانہ تعلقات سے آگا ہ کیا۔

    انہوں نے کہا کہ تکفیری آئیڈیالوجی اپنے انجام کی جانب گامزن ہے، جس کا خاتمہ عنقریب ہوجائے گا۔ یہ تکفیری پوری دنیا میں شکست سے دوچار ہیں، شکست ان تکفیری عناصر کے مقدر میں لکھی جا چکی ہے، داعش، القاعدہ، طالبان، بوکوحرام جہاں سے یہ تکفیری آئیڈیالوجی چلی ہے اور جہاں تک بھی پہنچی ہے ان کی شکست کے آثار دنیا دیکھ رہی ہے یہ کبھی بھی کامیاب نہیں ہو سکتے۔ اسلام کے مقابلے میں جو رحمت اللعالمین صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کا دین ہے اور جو مظلوموں سے نہیں ظالموں سے جہاد کا حکم دیتا ہے۔ اسلام کے مقابلے میں یہ امریکہ، اسرائیل، آل سعود اور دیگر عالمی استعماری قوتوں کے ایجنٹ بھر پور شکست سے دوچارہیں۔

    ڈاکٹر محمود خلف العیساوی کا  کہنا تھا کہ انہیں خوشی ہو رہی ہے کہ ان حضرات سے ملاقات ہو ئی ہے جو پاکستان میں وحدت کے پیغام کو لے کر کام کررہے ہیں اور شیعہ اور سنی کے درمیان الفت، محبت اور یگانگت کے لئے برسرپیکار ہیں۔

    ان کا کہنا تھا کہ راجہ ناصر کی باتیں سن کر میں بہت متاثرہوا ہوں، خود میرا تعلق بھی ایسے سلسلے سے ہے جس نے ہمیشہ لوگوں کو محبت، اتحاد ویگانگت کا پیغام دیا ہے، ہم نے ہمیشہ انتہاپسندی کی کھل کر مخالفت کی ہے، جو لوگ آج اہل سنت کا لبادہ اوڑھ کر امت مسلمہ میں فساد اور قتال کی ترویج کررہے ہیں، دراصل ان کا اہل تسنن سے کوئی تعلق نہیں۔ یہ داعشی اس زمانے کے خوارج ہیں، متشدد لوگ چاہے اہل سنت میں سے ہو یا شیعہ میں سے، اسلام دشمن ہیں۔

    انہوں نے مزید کہا کہ امت مسلمہ میں اہل تشیع اور اہل سنت کی مثال اس شہباز کی سی ہے جس کے دو پر ہیں ایک شیعہ اور ایک سنی، یہ دونوں پر ایک ساتھ حرکت کریں گے تو شہباز کو بلندی تک  پہنچائیں گے اور اسلام تیزی سے ترقی و کامرانی کے منازل طے کرے گا اور اگر صرف ایک پر سے ہی پرواز کی کوشش کرے گا تو وہ شہباز زمین کے بل گر پڑے گا، لہذٰا دونوں مکاتب کے درمیان خوشگوار تعلقات اس زمانے کی اہم ضرورت ہے۔

Share This:

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*

x

Check Also

چہلم شہدائے کربلا کے موقع پر کروڑوں عاشقان اہل بیت(ع) کا اجتماع حالات کی تبدیلی میں اہم کردار کا حامل: علامہ ڈومکی

​مجلس وحدت مسلمین صوبہ سندھ کے سیکرٹری جنرل علامہ مقصود علی ڈومکی نے سندہ کے ...